اڈپی یکم فروری (ایس او نیوز) اڈپی گورنمنٹ پی یو کالج میں حجاب کے مسئلہ کو مذہبی بنیادوں پر استحصال کے زمرے سے بچانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اڈپی ایم ایل اے اور کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر رگھو پتی بھٹ نے حجاب پر پابندی کو ایک نئی منطق سے درست قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔
جب سے کالج میں حجاب کا تنازع پیدا ہوا ہے ، حجاب پر اصرار کرنے والی طالبات اور ان کے حامیوں کی طرف سے ایک بات یہ بھی بار بار سامنے لائی جارہی ہے کہ اسی کالج میں دوسرے مذہب سے متعلق تہوار اور سرگرمیاں پوری آزادی کے ساتھ انجام دی جارہی ہیں، جس میں کالج احاطہ میں ہونے والی سرسوتی پوجا بھی شامل ہے ۔ جبکہ دوسری طرف صرف مسلم لڑکیوں کے حجاب کو ہی نشانہ بنا کر اس پر روک لگائی جارہی ہے ۔
اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ایم ایل اے رگھو پتی بھٹ کا کہنا ہے کہ :" یہ (سرسوتی پوجا) ہندوستانی روایت میں شامل ہے، یہ ہندو روایت نہیں ہے ۔ ہم سرسوتی کو علم کی دیوی مانتے ہیں ۔ اس لئے جو لوگ سرسوتی کے سامنے دعائیہ اجلاس میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ اس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ اِس معاملہ (حجاب تنازع) اور اُس معاملہ (سرسوتی پوجا) کے بیچ میں کیا تعلق ہے ؟ یہ معاملہ (حجاب) یونیفارم سے متعلق ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یونیفارم ہونا چاہیے یا نہیں ۔ اگر یونیفارم کوڈ ہے تو پھر ہر کسی کو ایک ہی قسم کے کپڑے پہننے ہونگے ۔"